بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

محمد میکائیل نام رکھنے کا حکم

سوال

میں نے اپنے بیٹے کا نام محمد میکائیل رکھا ہے، کیا یہ نام رکھ سکتے ہیں؟

جواب

بصورتِ مسئولہ میکائیل نام رکھنا مکروہ ہے؛ کیوں کہ یہ مشہور مقرب فرشتہ کا نام ہیں اور فرشتوں کے نام پر نام رکھنا مکروہ ہے۔

لہذا اس کے بجائے انبیاءکرام علیہم السلام، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین، اور صلحاء کے ناموں سے میں سے کسی نام کا انتخاب کرنا بہتر وافضل ہے۔

شرح السنة (12 / 336):

"ويكره التسمي بأسماء الملائكة مثل جبريل وميكائيل؛ لأن عمر ابن الخطاب رضي الله عنه قد كره ذلك، ولم يأتنا عن أحد من الصحابة ولا التابعين أنه سمى ولداً له باسم أحد منهم، هذا قول حميد بن زنجوية".

فیض القدیر میں ہے:

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: سموا بأسماء الأنبياء.

(فیض القدیر شرح الجامع الصغیر،رقم الحدیث:4717)

فقط والله أعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202200119
تاریخ21-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں