حق میراث وقت گزرنے سے ساقط نہیں ہوتا
سوال
کتنی مدت گزرجانےسے حق میراث ساقط ہوجاتاہے؟
جواب
واضح رہےکہ وقت گزرجانے کی وجہ سے حق میراث ساقط نہیں ہوتا، چاہے جتنا زیادہ وقت گزرجائے، بلکہ وارث جب تک اپنے حصہ پر قبضہ نہ کرلے وہ خود بھی اپنے حق کو ساقط نہیں کرسکتا۔
الاشباہ والنظائر میں ہے:
لَوْ قَالَ الْوَارِثُ : تَرَكْتُ حَقِّي لَمْ يَبْطُلْ حَقُّهُ ؛ إذْ الْمِلْكُ لَا يَبْطُلُ بِالتَّرْكِ.
(ما یقبل الاسقاط من الحقوق/ج:1/ص:316/ط: دارالکتب العلمیه)
فتاوی شامی میں ہے:
الإرث جبري لايسقط بالإسقاط.
(مطلب واقعۃ الفتوی/ج:7/ص:505/ط:دارالفکر)
وفیہ ایضا:
ولو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منها ومن حصتي لا يصح وهو على حقه لأن الإرث جبري لا يصح تركه.
(باب دعوی النسب/ج:8/ص:89/دارالفکر)
فقط والله أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

