بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حق میراث وقت گزرنے سے ساقط نہیں ہوتا

سوال

کتنی مدت گزرجانےسے حق میراث ساقط ہوجاتاہے؟

جواب

واضح رہےکہ وقت گزرجانے کی وجہ سے حق میراث ساقط نہیں ہوتا، چاہے جتنا زیادہ وقت گزرجائے، بلکہ وارث جب تک اپنے حصہ پر قبضہ نہ کرلے وہ خود بھی اپنے حق کو ساقط نہیں کرسکتا۔

الاشباہ والنظائر میں ہے:

لَوْ قَالَ الْوَارِثُ : تَرَكْتُ حَقِّي لَمْ يَبْطُلْ حَقُّهُ ؛ إذْ الْمِلْكُ لَا يَبْطُلُ بِالتَّرْكِ.

(ما یقبل الاسقاط من الحقوق/ج:1/ص:316/ط: دارالکتب العلمیه)    

فتاوی شامی میں  ہے:

الإرث جبري لايسقط بالإسقاط.

 (مطلب واقعۃ الفتوی/ج:7/ص:505/ط:دارالفکر)

وفیہ ایضا:                 

ولو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منها ومن حصتي لا يصح وهو على حقه لأن الإرث جبري لا يصح تركه.

(باب دعوی النسب/ج:8/ص:89/دارالفکر)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202200113
تاریخ21-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں