بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خود کشی کرنے والے کو ایصالِ ثواب کرنا

سوال

اگر کسی نے خود کشی کی تو اس کے لیے قرآن یا کچھ اور عبادت کرکے ایصالِ ثواب کر سکتے  ہیں یا نہیں؟ اور  اگر کیا تو اس کا ثواب اس خود کشی کرنے والے کو پہنچے گا یا نہیں؟

جواب

خود کشی کرنا بہت بڑا کبیرہ گناہ ہے، لیکن خودکشی کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا، اس لیے اس کے لیے  دعاءِ  مغفرت  یا ایصال ثواب کرنا جائز ہے۔  (امداد الفتاوی 4/ 607۔ احسن الفتاوی 4/206)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (2 / 211):

"(من قتل نفسه) ولو (عمداً يغسل ويصلى عليه)، به يفتى وإن كان أعظم وزراً من قاتل غيره. ورجح الكمال قول الثاني بما في مسلم «أنه عليه الصلاة والسلام أتي برجل قتل نفسه فلم يصل عليه»".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202200052
تاریخ20-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں