لڑکے کے عقیقے کے لیے بڑے جانور میں دو حصے لینے چاہییں یا ایک حصہ کافی ہے؟
سوال
اگر ایک لڑکے کی عقیقہ کرنے کے لیے بڑے جانور میں حصہ لینا ہو تو اس کے لیے ایک حصہ کافی ہے یا دو حصے لینا ہوں گے، جیسا کہ چھوٹے جانور دو لینا ہے؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں لڑکے کے عقیقہ کے لیے بڑے جانور میں دو حصے لینا مستحب ہے، تاہم ایک حصہ لیا، تب بھی عقیقہ ہوجائے گا۔
''وكذا لو أراد بعضهم العقيقة عن ولد قد ولد له من قبل؛ لأن ذلك جهة التقرب بالشكر على نعمة الولد ذكره محمد''.
(فتاوی شامی 6/ 326، کتاب الاضحیة، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

