بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صدقہ فطر کو ضرورت کی وجہ سے مؤخر کرنا

سوال

کیا صدقہ فطر کو ضرورت کے تحت مؤخر کیا جاسکتا ہے؟

جواب

واضح  رہے کہ صدقہ فطر عید الفطر کی  نماز سے پہلے  پہلے ادا  کرنا مسنون ہے،بلا کسی عذر اس میں تاخیر کرنا درست نہیں ہے،اور ثواب سے محرومی کا باعث  اور مکروہ ہے۔تاہم اگر کوئی ایسا شرعی عذر لاحق ہوگیا کہ عید الفطر کی نماز سے پہلے ادا  نہیں کرسکا تو تاخیر کی صورت میں گناہ نہیں ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"والمستحب للناس أن يخرجوا الفطرة بعد طلوع الفجر يوم الفطر قبل الخروج إلى المصلى، كذا في الجوهرة النيرة."

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202200004
تاریخ19-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں