بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

’’جب بھی میں زور سے ہنسوں تو مجھ پر بیس روپے لازم ہوں گے‘‘ جملہ کہنے سے نذر کا حکم

سوال

تین سال پہلے میں نے یہ کہا تھا کہ "اگر اس کے بعد جب بھی میں زور سے ہنسا تو مجھ پر بیس روپے لازم ہیں"، پھر میں نے ایک مفتی صاحب سے پوچھا تھا جلدی میں، اس نے کہا کہ اس طرح نذر واقع نہیں ہوتی۔ اب مجھے یہ خیال آیا ہے کہ شاید وہ مفتی صاحب جلدی میں نہ سمجھا ہو، تو کیا اس طرح نذر واقع ہوئی اور ہر بار قہقہہ کے پیسے مجھ پر صدقہ کرنا لازم ہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر   آپ نے یہ نذر مانی تھی کہ   ’’جب بھی میں قہقہے کے ساتھ ہنسوں تو مجھ پر بیس روپے لازم ہیں‘‘  تو آپ پر لازم ہے کہ ہر قہقہہ کے بدلہ بیس روپے صدقہ کریں، اگر گزشتہ عرصہ میں قہقہوں کی تعداد یاد نہیں ہے تو تخمینہ کے ذریعہ ایک تعداد ذہن میں رکھ کر اس کے حساب سے رقم ادا کریںن۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201201457
تاریخ22-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں