بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ملازم کا مالی حق ادا کرنے کے لیے شعبۂ مالیات کی جانب سے رقم کا مطالبہ کرنا رشوت ہے

سوال

میرے دفتر میں اکاؤنٹ ڈپارٹمنٹ میری اپنی رقم نکلوانے کے لیے اوپر پیسے مانگ رہا ہے۔ اس مسئلہ کے بارے میں میری راہ نمائی فرمائیں۔ کیا ان کو رقم دینا جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں کسی ادارے کا اکاؤنٹ ڈیپارٹمنٹ ( شعبہ مالیات) اپنے ادارے کے ضابطہ کا پابند ہوتا ہے، اور اس شعبہ سے وابستہ افراد پر شرعًا و اخلاقًا لازم ہوتا ہے کہ ادارے کی جانب سے وضع کردہ اصول و ضوابط کی خلاف ورزی نہ کرے، لہذا  صورتِ مسئولہ میں ملازم کی ذاتی رقم ادا کرنے کے لیے خلافِ ضابطہ رقم کا مطالبہ کرنا رشوت ہے، جس کا لینا اور دینا دونوں حرام ہیں، لہذا سائل کو چاہیے کہ ایسے افراد کی نشان دہی کرے اور ادارے کے ذمہ داران  کو آگاہ کرکے قرار واقعی سزا دلوائے، تاکہ دیگر افراد بھی ایسے افراد کے شر سے محفوظ رہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201201456
تاریخ21-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں