بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ظہار میں تشبیہ ضروری ہے

سوال

 ایک مجلس میں دو آدمیوں نے پیسے جمع کروائے کھانے  کی  غرض سے۔لیکن ان  دو  میں  سے  ایک نے کہا کہ جس نے بھی ان پیسوں کو ہاتھ لگایا اس پر اس کی بیوی بہن ہوگی۔اب وہ دوسرا آدمی جس کے  پیسے اس میں شریک تھے اس نے بھی کہا کہ ٹھیک ہے،  لیکن باقی دوستوں نے کہا:  بات ختم کرو اور  پیسے لے لو، اب ان پر کفارہ  ہے یا نہیں؟

جواب

 صورتِ مسئولہ  میں  مذکورہ  دو شخصوں پر  كوئي کفارہ لازم نہیں ہے؛ کیوں کہ ظہار  کے تحقق کے  لیے بیوی کی تشبیہ محرماتِ  اَبدیّہ (ماں، بیٹی، بہن  وغیرہ) کے ساتھ   دیتے وقت حرفِ تشبیہ ذکر کرنا ضروری ہے اور  تشبیہ   یہاں نہیں پائی جاتی، لہذا  مذکورہ دو شخصوں پر ظہار کا کفارہ نہیں آئے گا۔ 

"و شرعاً: تشبيه المسلم زوجته أو ما يعبر به عنها أو جزءًا شائعاً منها بمحرمة عليه تأبيداً."

  (اللباب في شرح الکتاب، کتاب الظهار (3/ 67)، ط: المكتبة العلمية، بيروت )

"و لفظ يا أخية استعارة بلا شكّ و هي مبنية على التشبيه، لكن الحديث أفاد كونه ليس ظهارًا حيث لم يبين فيه حكمًا سوى الكراهة، و النهي فعلم أنه لا بدّ في كونه ظهارًا من التصريح بأداة التشبيه شرعًا."

  (الفتاوی الشامية، کتاب الطلاق، باب الظہار (3/ 470)،ط. سعيد كراچی)

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201201450
تاریخ19-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں