بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غزوہ کی تعریف

سوال

غزوہ کی تعریف کیا ہے؟

جواب

اصطلاح میں ’’غزوہ‘‘ اس لشکر کو کہا جاتا ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنفسِ نفیس شریک رہے ہوں، یا آپ نے خود اس لشکر کو روانہ کیا ہو۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجیے:

غزوۂ ہند کے لیے غزوہ کا لفظ

فتح الباري لابن حجر (7 / 279):

"والمغازي جمع مغزى، يقال: غزا يغزو غزواً ومغزىً، والأصل غزوا والواحدة غزوة وغزاة والميم زائدة، وعن ثعلب: الغزوة المرة والغزاة عمل سنة كاملة، وأصل الغزو القصد، ومغزى الكلام: مقصده، والمراد بالمغازي هنا ما وقع من قصد النبي صلى الله عليه وسلم الكفار بنفسه أو بجيش من قبله".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201201440
تاریخ18-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں