بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چیک کے ذریعہ سونا چاندی خریدنا

سوال

پرائز بونڈ اور چیک کے ذریعہ سونا چاندی خریدنا جائز ہے؟

جواب

سونے کو نقدی کے بدلے بیچنا ہو تو عقد کی مجلس میں دونوں طرف قبضہ شرعًا ضروری ہوتا ہے، چیک نقدی کے حکم میں نہیں ہوتا، بلکہ نقدی کی رسید ہوتا ہے، یوں سونے کے بدلے چیک یا پرائز بونڈ دینے کی صورت میں سودا ایک طرف سے ادھار ہوجاتا ہے، اس لیے یہ صورت جائز نہیں۔

نیز پرائز بونڈ خریدنا بھی جائز نہیں ہے، اور اگر لاعلمی میں لے لیے یا کسی طرح ملکیت میں آگئے تو اس کی اصل قیمت استعمال کرنا جائز ہے، اس پر ملنے والا انعام سود اور جوئے کا مجموعہ ہونے کی وجہ سے  ناجائز ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201201416
تاریخ18-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں