بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فی لیٹر 5 پیسے نفع دینے والی آئل کمپنی میں سرمایا کاری کرنے کا حکم

سوال

ایک آئل کمپنی ہے، اس میں سرمایہ لگانے کا حکم کیا ہے ؟  وہ کمپنی سرمایہ لگانے والے کو فی لیٹر آئل کے حساب سے  5  پیسے نفع دے گی ، سرمایہ تین لاکھ روپے ہے اور یومیہ تقریبًا  ایک ہزار لیٹر تیل بکتا ہے ۔



جواب

مذکورہ آئل کمپنی میں سرمایا کاری کرکے نفع کمانا جائز نہیں ہے؛ کیوں کہ شرکت یا مضاربت کے معاملہ کے درست ہونے کے  لیے ضروری ہے کہ ہر شریک کے  لیے کاروبار میں سے حاصل ہونے والے نفع میں سے فیصد طے کیا جائے، نفع کو متعین کر کے شرکت کا معاہدہ کرنا جائز نہیں ہے، جب کہ صورتِ مسئولہ میں تین  لاکھ کا سرمایا لگانے پر فی لیٹر  5  پیسے نفع دینے کا معاہدہ کرنے سے نفع کی مقدار متعین ہورہی ہے جو کہ جائز نہیں ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6 / 59):

"(ومنها) : أن يكون الربح جزءًا شائعًا في الجملة، لا معينًا".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144201201385
تاریخ17-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں