بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کمپنی کا ملازم کو گاڑی دینا

سوال

میں K Electric میں کام کرتا ہوں۔ ہماری کار پالیسیی کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں، اس میں ہماری تنخواہ میں سے ہر مہینے ایک رقم کٹتی ہے۔ نان پیمنٹ کا کوئی چانس نہیں۔ براہِ کرم اس بارے میں رہنمائی فرمائیں!

جواب

عمومًا کمپنیاں گاڑیاں بینک سے لے کر اپنے ملازمین کو دیتی ہیں۔ اگر پالیسی یہ ہے کہ  ادارہ آپ کو گاڑی دے گا اور کٹوتی  آپ کی تنخواہ سے ہوتی رہے گی، اور گاڑی کے لیے بینک سے معاہدہ  ادارہ خود کرے  آپ کو اس میں شریک نہ ہونا پڑے، اس صورت میں بینک  سے ناجائز معاہدے کا گناہ  ادارے پر ہی ہوگا۔ اور آپ کے لیے گاڑی لینا جائز ہوگا۔

لیکن اگر بینک سے معاہدہ ملازم کرتا ہے تو   اس صورت میں گاڑی لینا جائز نہیں ہوگا۔

الصحیح المسلم رقم الحدیث: ۳۹۷۲
لعن رسول الله صلی الله علیه وسلم آكل الربوا و موكله و كاتبه و شاھدیه، و قال: ھم سواء.
و في تکملة فتح الملهم ج: ۱ ص: ۶۱۹
(قوله: و كاتبه) لان كتابة الربا إعانة علیه، ومن ھنا ظھر أنّ التوظف في البنوك الربویة لا یجوز، فإن كان عمل الموظف في البنك ما یعین على الربا كالکتابة والحساب فذلك حرام لوجھین: الأول إعانة  على المعصیة، والثاني أخذ الاجرة من المال الحرام۔

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201201329
تاریخ16-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں