بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مروجہ اسلامی بینک کا حکم

سوال

اسلامی بینک جائز ہے؟ اگر نہیں تو کیوں؟

جواب

 ملک کے اکثر جید اور مقتدر علماءِ کرام  کی رائے یہ ہے کہ مروجہ اسلامی بینکوں کا طریقہ کار شرعی اصولوں کے مطابق نہیں ہے،  اور مروجہ غیر سودی بینک اور  روایتی بینک کے بہت سے  معاملات  تقریباً ایک جیسے ہیں، لہذا روایتی بینکوں میں جو ناجائز معاملات ہیں، ان کی طرح ان کے بدل کے طور پر اسلامی بینک کے معاملات بھی ناجائز ہیں۔

تفصیل کے لیے  ” مروجہ اسلامی بینکاری“  نامی کتاب کا مطالعہ کرلینا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201201316
تاریخ16-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں