ایک صدقہ کا اثر کتنے لوگوں کو پہنچ سکتا ہے؟
سوال
صحت یابی کی نیت سے میں ایک شخص کے لیے مرغی صدقہ کرتا ہوں۔ کیا دس مزید لوگوں کو اس نیت میں شامل کیا جا سکتا ہے؟ یعنی کیا سب کو ایک ایک مرغی کے صدقے کا اثر پہنچے گا؟
جواب
اگر آپ ایک مرغی صدقہ کرتے ہیں اس نیت سے کہ اس صدقہ کی برکت سے آپ کے بیمار کو شفا حاصل ہو تو یہ مستحسن عمل ہے، نیز اس صدقہ کی برکت سے جتنے لوگوں کی شفایابی کی نیت کریں جائز ہے۔
في مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (4 / 1333):
1887 - وعن علي قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: " «بادروا بالصدقة فإن البلاء لا يتخطاها» " رواه رزين.
في السنن الكبرى للبيهقي (3 / 536):
6593 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ، عودا على بدء قال: حدثنا أبو عمرو محمد بن عبد الواحد الزاهد، ثنا أحمد بن زياد بن مهران السمسار، ثنا إسحاق بن كعب الأنطاكي، ثنا موسى بن عمير، عن الحكم بن عتيبة، عن إبراهيم، عن الأسود بن يزيد، عن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " داووا مرضاكم بالصدقة، وحصنوا أموالكم بالزكاة، وأعدوا للبلاء الدعاء ". قال أبو عبد الله: تفرد به موسى بن عمير. قال الشيخ: وإنما يعرف هذا المتن عن الحسن البصري عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلًا۔
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

