بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

crack software کا استعمال

سوال

 میں ایک یونیورسٹی کا طالب علم ہوں۔ میرا سوال یہ ہے کہ ہم جو کریک سافٹ ویئر crack software استعمال کرتے ہیں، کیا یہ تعلیمی مقاصد کے لیے جائز ہے؛ کیوں کہ ہم یہ سافٹ ویئر خرید نہیں سکتے، ایک سافٹ ویئر کی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے جو کہ ہمارے لیے ممکن نہیں ہے۔ کیا ہم اس کو کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں؟ اور اس کی آمدنی حلال ہے یا حرام ہوگی؟

جواب

کریک سافٹ ویئر (crack software) کا استعمال جائز ہے، کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی تفصیل یہ ہے کہ اگر اسے استعمال کرنے والے کو معلوم ہے کہ یہ اصل سافٹ ویئر کمپنی کا سافٹ ویئر نہیں ہے، بلکہ اس کا کریک ورژن ہے تو اس کی آمدنی حلال ہے؛ کیوں کہ اس میں دھوکا نہیں ہے اور اگر استعمال کرنے والے کو یہ اطلاع نہ دی جائے کہ یہ کریک ورژن ہے تو اس کی آمدنی حلال نہیں؛ اس لیے کہ اصل سافٹ ویئر کمپنی کا نام استعمال کرکے دھوکا دینا ناجائز ہے۔

الاشباہ والنظائر میں ہے:

’’الحقوق المجردة لايجوز الاعتياض عنها ‘‘. (1/212)

فتح القدیر میں ہے :

"وإنما یحرم علی المسلم إذاكان بطریق الغدر".

(فتح القدیر، باب الربا، دار الفکر بیروت۷/۳۹)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201201212
تاریخ13-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں