بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

استنجا کا ڈھیلہ دوبارہ استعمال کرنا

سوال

کیا استنجا میں ایک ڈھیلا باربار استعمال کرنا جائز ہے؟

جواب

مٹی کے جس ڈھیلے  سے استنجا کیا جائے، دوبارہ مستعمل جگہ سے استنجا کرنا جائز نہیں ہے، البتہ اگر وہ بڑا ہو تو اس کی دوسری جانب  جس سے استنجا نہ کیا ہو  اور اس پر نجاست نہ لگی ہو، اس سے استنجا کرلیا جائے تو مضائقہ نہیں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 339):

"(وكره) تحريماً (بعظم وطعام وروث) يابس كعذرة يابسة وحجر استنجي به إلا بحرف آخر

 (قوله: استنجي به) بالبناء للمجهول. (قوله: إلا بحرف آخر) أي: لم تصبه النجاسة".

الفتاوى الهندية (1/ 50):

"ولايستنجي بالأشياء النجسة وكذا لايستنجي بحجر استنجى به مرةً هو أو غيره إلا إذا كان حجراً له أحرف، له أن يستنجي كل مرة بطرف لم يستنجي به فيجوز من غير كراهة. كذا في المحيط".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201201158
تاریخ12-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں