بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کھانا کھلانے کی نیت سے مدرسہ میں رقم دینا

سوال

ہم نیت کرتے ہیں غریب کو کھانا کھلانے کی ،یہ پیسے اگر اب ہم مدرسے میں میں دےدیں، تو جائز ہے ؟ مثلاً 50 یا 100افراد کی نیت کس طرح ہوگی؟  اس کی وضاحت فرمادیجیے!

جواب

بصورتِ مسئولہ اگر غریبوں کو کھانا کھلانے کی صرف نیت کی تھی، زبان سے نذر نہیں مانی تھی تو غریبوں کو کھانا کھلانا واجب نہیں ہوگا، البتہ  نیک کام کے کیے گئے ارادے اور نیت کو پور اکرنا چاہیے؛  لہٰذا غریبوں کو کھانا کھلانے کی نیت کرنے کے بعد اس کھانے کی رقم کسی مدرسے میں دینا جائز ہے،جتنے افراد کو کھانا کھلانا مقصود ہے اتنے افراد کے کھانے کی رقم کا تخمینہ لگادیاجائے اور کسی ایسے مدرسے میں جہاں طلبہ کے کھانے کا انتظام کیاجاتاہو وہاں یہ رقم دے دی جائے اور انہیں بتلادیاجائے کہ یہ رقم طلبہ کے کھانے میں استعمال کی جائے ۔اس میں  بہ نسبت عام لوگوں پر خرچ کرنے کے دوہرا اجر ہوگا۔

الدر المختار شرح تنوير الأبصار في فقه مذهب الإمام أبي حنيفة - (3 / 741):

"(نذر أن يتصدق بعشرة دراهم من الخبز فتصدق بغيره جاز إن ساوى العشرة ) كتصدق بثمنه."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201201058
تاریخ10-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں