بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اذہان نام رکھنا

سوال

’’محمد اذہان‘‘ نام رکھنا کيسا ہے؟

جواب

"اَذْہان" عربی زبان کا لفظ ہے، یہ "ذہن" کی جمع ہے، جس کا معنی سمجھنا  ہے،  یہ نام رکھنا اگرچہ جائز ہے، تاہم بہتر یہ ہے کہ کوئی دوسرا اچھا نام مثلاً انبیاء کرام علیہم السلام یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی کے نام پر نام رکھ لیا جائے۔

( ذهن ) الذهن الفهم والعقل والذهن أيضا حفظ القلب وجمعهما أذهان.

(لسان العرب (13/ 174) ط: دار صادر)

فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201201006
تاریخ09-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں