بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مغرب کے قعدہ اخیرہ کے بعد شک کی وجہ سے امام نے چوتھی رکعت ملاکر سجدہ سہو کیا

سوال

نمازِ  مغرب  میں  امام تین رکعت پوری کرکے  قعدہ اخیرہ میں سلام پھیررہا تھا کہ کسی مقتدی کو گمان ہوا کہ امام نے دورکعت پڑھی ہے اور لقمہ دے  دیا امام کو  شک ہوا  اور چوتھی رکعت کے لیے کھڑا ہوکر سجدہ سہو کرکے سلام پھیر دیا۔  مذکورہ صورت میں نماز ادا ہوگئی یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں نماز ادا ہوگئی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 93):

"(وإن كثر) شكه (عمل بغالب ظنه إن كان) له ظن للحرج (وإلا أخذ بالأقل) لتيقنه (وقعد في كل موضع توهمه موضع قعوده) ولو واجبًا لئلايصير تاركًا فرض القعود أو واجبه."

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 87):

"(وإن قعد في الرابعة) مثلاً قدر التشهد (ثم قام عاد وسلم) ولو سلم قائماً صح؛ ثم الأصح أن القوم ينتظرونه، فإن عاد تبعوه (وإن سجد للخامسة سلموا)؛ لأنه تم فرضه، إذ لم يبق عليه إلا السلام (وضم إليها سادسة) لو في العصر، وخامسة في المغرب: ورابعة في الفجر، به يفتى، (لتصير الركعتان له نفلاً) والضم هنا آكد، ولا عهدة لو قطع، ولا بأس بإتمامه في وقت كراهة على المعتمد (وسجد للسهو)."

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (1 / 151):

"(ولا عهدة لو قطع) أي لايلزمه شيء لأنه ظان فيها لكن في الجامع الصغير وعليه أن يضيف سادسة وكلمة على للإيجاب إلا أن يقال كلمة على تستعمل هاهنا بمعنى الآكدية لا للإيجاب ولكن خلاف الظاهر، تدبر."

فقط و الله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200995
تاریخ08-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں