بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 ربیع الثانی 1448ھ 10 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شیعہ کے ساتھ کاروباری شراکت داری کا معاملہ کرنے کا حکم

سوال

شیعہ کے ساتھ کاروباری شرکت کرنا کیسا ہے؟ یعنی اسے اپنے ساتھ کاروبار میں شریک کرنا یا اس کے ساتھ کاروبار میں شریک ہونا کیسا ہے؟

جواب

شیعہ کے ساتھ کاروباری لین دین اور شراکت داری کا معاملہ کرنا جائز ہے، البتہ کاروباری معاملات کرنے میں دین دار مسلمان کو ترجیح دینا بہتر ہے۔

الفتاوى الهندية (5/ 348):

لا بأس بأن يكون بين المسلم والذمي معاملة إذا كان مما لا بد منه كذا في السراجية.

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200992
تاریخ08-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں