ایک سجدے میں تین مرتبہ دوسرے میں پانچ مرتبہ تسبیح پڑھنا
سوال
مثلاً ظہر کی نماز پڑھ رہے ہیں تو کسی سجدے میں تین مرتبہ کسی میں چانچ مرتبہ ایسے پڑھ سکتے ہے یا نہیں؟
جواب
سجدے میں کم از کم تین مرتبہ "سبحان ربی الاعلی" پڑھنا مسنون ہے، بالکل نہ پڑھنا یا تین سے کم پڑھنا مکروہ تنزیہی ہے، تین مرتبہ سے زیادہ پڑھ سکتے ہیں، طاق عدد مثلاً پانچ یا سات مرتبہ پڑھنا مستحب ہے، بہتر تو یہ ہے کہ دونوں سجدوں میں برابر تعداد میں تسبیح پڑھی جائے، البتہ ایک سجدے میں تین مرتبہ اور دوسرے میں پانچ یا سات مرتبہ تسبیح پڑھ لی جائے تو بھی نماز ہوجائے گا۔
البحرالرائق میں ہے:
قَوْلُهُ: ( وَسَبَّحَ فيه ثَلَاثًا ) أَيْ في رُكُوعِهِ بِأَنْ يَقُولَ سُبْحَانَ رَبِّي الْعَظِيمِ ثَلَاثًا لِحَدِيثِ ابْنِ مَاجَهْ إذَا رَكَعَ أحدكم فَلْيَقُلْ سُبْحَانَ رَبِّي الْعَظِيمِ ثَلَاثًا وَذَلِكَ أَدْنَاهُ وإذا سَجَدَ فَلْيَقُلْ سُبْحَانَ رَبِّي الْأَعْلَى ثَلَاثًا وَذَلِكَ أَدْنَاهُ ( 1 ) وفي صَحِيحِ مُسْلِمٍ أَنَّهُ كان يقول في رُكُوعِهِ سُبْحَانَ رَبِّي الْعَظِيمِ وفي سُجُودِهِ سُبْحَانَ رَبِّي الْأَعْلَى.
وفي سُنَنِ أبي دَاوُد لَمَّا نَزَلَتْ { فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّك الْعَظِيمِ } الواقعة 74 قال اجْعَلُوهَا في رُكُوعِكُمْ
فلما نَزَلَتْ { سَبِّحْ اسْمَ رَبِّك الأعلى } الْأَعْلَى 1 قال اجْعَلُوهَا في سُجُودِكُمْ .....لو تَرَكَ التَّسْبِيحَاتِ أَصْلًا أو نَقَصَ عن الثَّلَاثِ فَهُوَ مَكْرُوهٌ كَرَاهَةَ التَّنْزِيهِ.........وَيُسْتَحَبُّ أَنْ يَخْتِمَ على وِتْرٍ خَمْسٍ أو سَبْعٍ أو تِسْعٍ لِحَدِيثِ الصَّحِيحَيْنِ إنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ ۔(فصل ہو فی اللغۃ فرق.../ج:1/ص:333/ط:دارالمعرفہ)
فقط و الله أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

