بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گیمنگ زون کی کمائی کا حکم

سوال

ایسے گیمنگ زون کی کمائی کا کیا حکم ہے جس میں کمپیوٹر پر گیم کھیلے جاتے ہیں؟ (یعنی اسنوکر، پٹی  وغیرہ کے علاوہ)

جواب

صورتِ مسئولہ میں  ایسے گیمنگ زون کی آمدن ناجائز ہے؛ کیوں کہ اکثر گیمز جان دار کی تصاویر، موسیقی وغیرہ پر مشتمل ہوتی ہیں۔ نیز اگر یہ قباحت نہ بھی ہو، تب بھی  ایسے گیمنگ زون چلانے والے اس میں یوں منہمک ہوجاتے ہیں کہ فرائض میں کوتاہی وغفلت ہو جاتی ہے اور فرائض کی ادائیگی کا خیال رکھتے ہوئے بھی ایسے زون کو چلانا ایک لہو اور عبث کام ہے، اس لیے بہرصورت اس سے اجتناب کرنا لازم اور ضروری ہے۔

الدر الختار میں ہے:

قال ابن مسعود: صوت اللهو و الغناء ينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء النبات. قلت: و في البزازية: إستماع صوت الملاهي كضرب قصب و نحوه حرام ؛لقوله عليه الصلاة و السلام: استماع الملاهي معصية، و الجلوس عليها فسق، و التلذذ بها كفر؛ أي بالنعمة.

( ٦/ ٣٤٨ - ٣٤٩، ط: سعيد) 

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200977
تاریخ08-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں