بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مرد کا عورت کو سلام کرنا

سوال

کیا مرد عورت کو سلام کر سکتا ہے؟

جواب

 مرد ،اپنی محارم کو سلام کرے گا، اور غیر محرم بوڑھی عورت کو   بھی سلام کرسکتا ہے،  جوان کو نہیں، اگر جوان عورت سلام کرے تو اس کا جواب دل میں  دے۔ 

اور اگر عورت بڑھاپے  کی عمر میں ہے تو    وہ   مرد کو سلام  کرسکتی ہے،  اسی طرح سلام کا جواب دے سکتی ہے،  اور مرد بھی اس کے سلام کا جواب دے سکتاہے۔ اگر عورت جوان ہے تو  اسے غیر محرم مرد کو سلام   نہیں کرنا چاہیے،  اور مرد  سلام  کرلے تو دل میں جواب دے۔

ملحوظ رہے کہ یہ حکم زبانی سلام کا ہے، مصافحہ غیر محرم سے بہرصورت ناجائز ہے۔  

فتاویٰ شامی میں ہے:

"رد السلام واجب إلا ... شابة یخشیٰ بها افتتان".

(الشامیة:۱۸۱۔ ط: سعید کراچی )

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200975
تاریخ08-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں