معذور شرعی کا امامت کرانا
سوال
کیا وضو کے لحاظ سے معذورمرد بوقت ضرورت یعنی سفر وغیرہ میں بیوی اور محرم خواتین کی امامت کر سکتا ہے؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص کو وضو کے نواقض میں سے کوئی سبب مسلسل پیش آتا رہتا ہو، جس کی وجہ سے اتنا وقت بھی نہ ملتا ہو کہ وہ با وضو ہو کر مذکورہ ناقض پیش آئے بغیر وقتی فرض ادا کر سکے تو وہ معذورِ شرعی قرار پائے گا، جس کے سبب وہ صحت مند افراد کی امامت کا اہل نہ ہوگا، خواہ صحت مند مقتدی مرد ہوں یا خواتین، لہذا جب تک مذکورہ عذر برقرار رہے ایسا شخص سفر و حضر میں غیر معذورین کی امامت نہیں کرا سکتا، اور اس کے پیچھے صحت مند مقتدیوں کی نماز بھی نہ ہوگی۔
الدر مع الرد میں ہے:
ولا طاهر بمعذور.
(باب الإمامة، ١/ ٥٧٨، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

