بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تین طلاق دینے سے طلاق کا حکم

سوال

کیا تین طلاق دینے سے طلاق ہوجاتی ہے؟

جواب

1- اگر میاں بیوی نکاح کے بعد تنہائی میں مل چکے ہوں جہاں  وہ ازدواجی تعلقات پر قدرت رکھتے تھے اسے خلوتِ صحیحہ کہتے ہیں، اگر خلوتِ صحیحہ کے بعد شوہر اپنی بیوی کو  بیک وقت ایک جملے میں یا کئی جملوں میں تین طلاقیں دے تو تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔
2- اگر خلوتِ صحیحہ سے پہلے ایک جملے میں تین طلاقیں دیں تب بھی تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔
3- اگر خلوتِ صحیحہ سے پہلے تین الگ الگ جملوں میں تین طلاقیں دیں تو پہلی طلاق واقع ہونے سے بیوی بائنہ اور اجنبیہ ہوجائے گی، بقیہ دو طلاقوں کا محل اور مقام نہیں رہے گا۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

تین طلاق ایک مجلس میں دینا

ایک مجلس کی تین طلاقیں

فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200952
تاریخ07-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں