بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بھائی کے وارث بننے کی تفصیل

سوال

بھائی کو وراثت میں کب حصہ ملے گا اور کب نہیں؟

جواب

میت کا بیٹا، پوتا یا باپ/ دادا ہونے کی صورت میں میت کا بھائی وارث نہیں ہوتا۔ بیٹا / بیٹے، پوتا / پوتے یا باپ / دادا نہ ہوں تو ذوی الفروض کے حصوں کے بعد جو بچ جائے، اس میں بھائی / بھائیوں کا حصہ ہوتا ہے۔

سراجی میں ہے:

يرجحون بقرب الدرجة، أعني أولاهم بالميراث جزء الميت أي البنون ثم بنوهم وإن سفلوا، ثم أصله أي الأب ثم الجد أي أب الأب وإن علا، ثم جزء أبيه أي الإخوة۔۔۔الخ(ص 36، بشرى)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200940
تاریخ07-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں