بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سرکاری بیت المال سے زکاۃ لینا

سوال

کیا سرکاری بیت المال پاکستان سے زکاۃ لینا جائز ہے؟ اگرلینے والا مستحق ہو اور سنا ہے کہ یہ مال بینکوں سے لوگوں کے اکاؤنٹ سے کاٹا جاتا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  اگر سرکاری بیت المال سے زکاۃ لینے والا مستحقِ زکاۃ ہو اور بیت المال والے زکاۃ کہہ کر ادا کرہے ہوں تو اس کے لیے زکاۃ وصول کرنا جائز ہے۔اگر چہ مذکورہ زکاۃ بینک کے اکاؤنٹ ہولڈرز کی زکاۃ ہو۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 43):

منها أن يكون فقيرا فلا يجوز صرف الزكاة إلى الغني إلا أن يكون عاملا عليها لقوله تعالى {إنما الصدقات للفقراء والمساكين والعاملين عليها والمؤلفة قلوبهم وفي الرقاب والغارمين وفي سبيل الله وابن السبيل} [التوبة: 60] 

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200918
تاریخ06-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں