بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

یا علی یا عظیم یا حلیم ۔۔۔ دعا کا ترجمہ

سوال

"یَا عَلِيُّ یَا عَظِیمُ یَا عَلِیمُ یَا حَلِیمُ، اَللَّهُمَّ إنَّكَ مَلِيكٌ مُقْتَدِرٌ مَا تَشَاءُ مِنْ أَمْرٍ يَكُونُ، اللَّهُمَّ اَسْعِدْنِيْ في الدَّارَیْنِ اللَّهُمَّ اقْضِ عَنِّي الدَّیْنَ".

برائے کرم اس کا اردو ترجمہ بتائیں اور یہ بھی بتائیں کہ اس کو کیسے پڑھیں؟

جواب

(" یَا عَلِيُّ یَا عَظِیمُ یَا عَلِیمُ یَا حَلِیمُ، اَللَّهُمَّ إنَّكَ مَلِيكٌ مُقْتَدِرٌ مَا تَشَاءُ مِنْ أَمْرٍ يَكُونُ، اللَّهُمَّ أَسْعِدْنِيْ في الدَّارَیْنِ اللَّهُمَّ اقْضِ عَنِّي الدَّیْنَ")

ترجمہ درج ذیل ہے:

ترجمہ: اے بلند و برتر، اے عظمت والے، اے سب کچھ جاننے والے، اے حِلم والے (بردبار)، اے اللہ! بے شک آپ بادشاہ ہیں، قدرت والے ہیں، جو  بھی کام چاہتے ہیں وہ ہوجاتاہے، اے اللہ!  مجھے دونوں  جہانوں  (دنیا و آخرت) میں سعادت مند (نیک بخت) بنادیجیے، اے اللہ! میرے قرض کی ادائیگی کا انتظام فرمادیجیے!

دعا  پڑھنے  کی کوئی متعین مقدار نہیں ہوتی، جتنا ہوسکے  ، اللہ تعالی سے دعا مانگیں۔

مصنف ابن أبي شيبة - ترقيم عوامة (10/ 254):

’’ عَن سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ : دَخَلْت الْمَسْجِدَ وَأَنَا أَرَى أَنِّي قَدْ أَصْبَحْت وَإِذَا عَلَيَّ لَيْلٌ طَوِيلٌ ، وَإِذَا لَيْسَ فِيهِ أَحَدٌ غَيْرِي ، فَقُمْت فَسَمِعْت حَرَكَةً خَلْفِي فَفَزِعْت , فَقَالَ : أَيُّهَا الْمُمْتَلِئُ قَلْبُهُ فَرَقًا ، لاَتَفْرَقْ ، أو لاَتَفْزَعْ وَقُلِ: اللَّهُمَّ إنَّك مَلِيكٌ مُقْتَدِرٌ مَا تَشَاءُ مِنْ أَمْرٍ يَكُونُ ، ثُمَّ سَلْ مَا بَدَا لَكَ ، قَالَ سَعِيدٌ : فَمَا سَأَلْت اللَّهَ شَيْئًا إِلاَّ اسْتَجَابَ لِي‘‘.

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200904
تاریخ06-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں