بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زندگی میں پوتے کو حصہ دینا

سوال

والد اپنے  بیٹے کی زندگی میں پوتے کو  بیٹے کی رضامندی کے بغیر جائیداد میں حصہ دے سکتا ہے؟

جواب

والد زندگی میں تو اپنی جائیداد کا خود مالک ہے، اگر وہ اپنی جائیداد تقسیم کرنا چاہے تو اس میں سے پوتے کو بھی کچھ حصہ دے سکتا ہے،نیز اس تقسیم میں بیٹے اور بیٹی کو برابر حصۃ دینا چاہیئے۔ البتہ اس کی وفات کے بعد میراث کے طور پر جو تقسیم ہوگی اس میں  پوتے کا حق نہیں ہوگا۔

فتاوی شامیمیں ہے:

و في الخانیة: لابأس بتفضیل بعض الأولاد في المحبة؛ لأنها عمل القلب وكذا في العطایا إن لم یقصد به الإضرار، و إن قصده فسوى بینهم یعطی البنت كالابن عند الثاني، و علیه الفتوى.

(ج۔5 ص۔696 ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200880
تاریخ06-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں