بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

احتلام کی حالت میں کام کاج کرنا

سوال

احتلام کی حالت میں کام کرنا کیسا ہے؟ کپڑے وغیرہ دھونے سے کپڑے ناپاک ہوتے ہیں یا نہیں؟

جواب

احتلام کی حالت میں کام کاج کرنا منع نہیں ہے، اور کپڑے دھونے سے اگر کپڑوں پر کوئی ظاہری نجاست نہ لگے تو صرف ناپاکی کی حالت میں ہونے کی وجہ سے وہ کپڑے ناپاک نہیں ہوں گے، البتہ غسلِ واجب میں جس قدر جلدی طہارت حاصل کرلی جائے بہتر ہے، تاہم نماز کے وقت تک  تاخیر کرنے سے گناہ نہیں ہوگا، اور اتنی تاخیر کرنا کہ نماز قضا ہوجائے، جائز نہیں ہے، اور یہ حکم مرد وعورت دونوں کے لیے ہے۔

الفتاوى الهندية (1/ 16):

الجنب إذا أخر الاغتسال إلى وقت الصلاة لا يأثم. كذا في المحيط.

قد نقل الشيخ سراج الدين الهندي الإجماع على أنه لا يجب الوضوء على المحدث والغسل على الجنب والحائض والنفساء قبل وجوب الصلاة أو إرادة ما لا يحل إلا به. كذا في البحر الرائق كالصلاة وسجدة التلاوة ومس المصحف ونحوه. كذا في محيط السرخسي.

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200863
تاریخ05-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں