بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قبر کھل جانے کے بعد ملنے والی ہڈیوں کا مٹی میں دفنانا

سوال

حالیہ بارشوں کے باعث قبرستانوں میں بہت سی قبریں بیٹھ گئیں، میں نے اپنی والدہ کی قبر کو دیکھا تو اس کی باقیات باہر آگئی تھیں، میں نے ان کوایک چادر میں لپیٹ کر دوبارہ ان کو مٹی میں دفنا دیا، سلیب نہیں رکھے، ڈائریکٹ مٹی میں دفنا دیا، کیا یہ طریقہ درست ہے؟ نہیں تو درست طریقہ کیا ہے؟ اور اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ کیا اس عمل میں کوئی گناہ تو نہیں؟

جواب

قبر منہدم ہونے کے بعد  مٹی سے اس کی مرمت کرنا جائز ہے اور اگر  قبر کھل جانے کے بعد صرف ہڈیاں ہوں تو انہیں اسی قبر میں ایک طرف مٹی میں دبا دینا جائز ہے، لہذا آپ کا عمل درست تھا۔

الفتاوى الهندية (1 / 166):

وإذا خربت القبور فلا بأس بتطيينها، كذا في التتارخانية، وهو الأصح وعليه الفتوى، كذا في جواهر الأخلاطي.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 233):

قال في الفتح، ولا يحفر قبر لدفن آخر إلا إن بلي الأول فلم يبق له عظم إلا أن لا يوجد فتضم عظام الأول ويجعل بينهما حاجز من تراب.

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200850
تاریخ05-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں