بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حالت حیض میں دوپٹہ سے قرآن کریم کو پکڑنے کا حکم

سوال

کیا عورت حالت حیض میں قرآن پاک کو اپنے دوپٹے کے ساتھ چھو سکتی ہے؟

جواب

عورت کے لیے حالتِ حیض میں قرآنِ پاک کو دوپٹے سے پکڑ  کر اٹھانا جائز ہے، البتہ دوپٹہ جس وقت اوڑھا ہوا ہو اس وقت اس کے ذریعہ قرآنِ پاک کو پکڑنا بے ادبی کے زمرے میں آئے گا؛ اس لیے اس وقت دوپٹے سے قرآنِ پاک کو پکڑنا جائز نہیں ہوگا، البتہ ایسی حالت میں دوپٹے کو سر سے اتار کر پھر اس سے قرآنِ کریم کو پکڑنا جائز ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 294):

(ولا يكره) تحريما (مس قرآن بكم) عند الجمهور تيسيرا، وصحح في الهداية الكراهة، وهو أحوط.

(قوله: الكراهة) أي التحريمية ط (قوله: وهو أحوط) وقدمنا عن الخانية أنه ظاهر الرواية، وعزاه في الخلاصة إلى عامة المشايخ. قال في البحر: فكان أولى، وقدمنا عن البدائع أن التقييد بالكم اتفاقي فإنه لا يجوز مسه بغير الكم أيضا من بعض ثياب البدن -.

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200843
تاریخ05-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں