بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عدت میں گھر سے نکلنے کی گنجائش کی صورت

سوال

اگر کسی عورت کے شوہر کا انتقال ہو جاۓ اور اس کے چھوٹے بچے ہوں اور کوئی کمانے والا نا ہو تو کیا اس کے لیے بھی عدّت لازمی ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں ایسی عورت پر عدت میں بیٹھنا لازم ہے، نہ بیٹھنے کی صورت میں وہ گناہ گار ہوگی۔ تاہم اگر گزارا کی رقم نہ ہو اور کہیں باہر سے بھی رقم کا انتظام نہ ہو تو دن میں مغرب سے پہلے تک گھر سے باہر نکل کر بقدرِ ضرورت کمانے  کی اجازت ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3 / 536):

(ومعتدة موت تخرج في الجديدين وتبيت) أكثر الليل (في منزلها) لأن نفقتها عليها فتحتاج للخروج.

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200836
تاریخ05-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں