بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کے مال میں بیوہ کا حصہ

سوال

میت کا ترکہ اگر معلوم نہ ہو لکھائی کی صورت  میں، لیکن گواہ موجودہوں تو کیا اس مال میں بیوہ کا حق ہے یا یہ تمام مال نابالغ بچوں کی وراثت ہے یا شریعتِ مطہرہ میں اس کی کوئی تفصیل ہے؟

جواب

شوہر  کے ترکہ میں  بیوہ کا حصہ قرآن کریم نے متعین کردیا ہے، شوہر جتنا مال چھوڑ کر فوت ہوجائے اس میں  سے اس کی بیوہ کو حصہ ضرور ملے گا، اگر ورثاء میں مرحوم کی اولاد بھی موجود ہوں تو بیوہ کو کل مال کا آٹھواں حصہ ملے گا اور اگر مرحوم  کی اولاد موجود نہ ہوں تو بیوہ کو کل مال کا چوتھا حصہ ملے گا۔

صورتِ مسئولہ میں اگر مرحوم کے ترکہ پر شرعی گواہ یعنی دو مرد یا ایک مرد ، دو عورتیں موجود ہوں   یا کسی دوسرے  ذریعہ سے مرحوم کا ترکہ ہونا ثابت ہوجائے تو اس میں بیوہ کو  اس کا شرعی حصہ ملے گا۔

قرآن کریم میں ہے:

وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ الآية [النساء :12]

فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200811
تاریخ05-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں