بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ریال کی خرید و فروخت سے نفع کمانا

سوال

ریال کی خرید فروخت سے نفع؟

جواب

آپ کا سوال مکمل واضح نہیں ہے،اگر آپ یہ معلوم کرنا چاہ رہے ہیں کہ ریال کی خرید وفروخت سے نفع حلال ہے یا نہیں،تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر ریال کو پاکستانی روپیہ یا کسی اور کرنسی کے عوض بیچا جا رہا ہو تو اس میں شرط یہ ہے کہ یہ خرید وفروخت نقد ہو اور ایک ہی مجلس میں ہو،اگر نقد خرید و فروخت  کر کے نفع حاصل ہوتا ہے تو  یہ نفع حلال ہے۔ اور  اگر  ادھار  پر بیچا تو یہ جائز  نہیں ہے۔

اور اگر آپ کا سوال کسی اور بارے میں ہے تو اس کی وضاحت کر کے مسئلہ دوبارہ معلوم کرلیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200804
تاریخ04-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں