بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حالتِ حیض یا نفاس میں انتقال والی کو غسل دینے کا طریقہ

سوال

اگر کسى عورت کا حالتِ حیض یا نفاس میں انتقال هوجائے تو اس کو غسل کیسے دیا جائے؟

جواب

اگر عورت حیض یا نفاس کی حالت میں مر جائے تو اس کو بھی عام میت کی طرح غسل دیا جائے گا، حیض اور غیر حیض اور نفاس اور غیر نفاس والی عورت کے غسل میں کوئی فرق نہیں ہے، اور ایک ہی دفعہ غسل دینا کافی ہے۔ حیض ونفاس کی وجہ سے دو دفعہ غسل نہیں دیا جائے گا۔ (میت کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا)  

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 195)

(ويوضأ) من يؤمر بالصلاة (بلا مضمضة واستنشاق) للحرج، وقيل يفعلان بخرقة، وعليه العمل اليوم، ولو كان جنبا أو حائضا أو نفساء فعلا اتفاقا تتميما للطهارة كما في إمداد الفتاح مستمدا من شرح المقدسي.

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200801
تاریخ04-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں