بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میراث میں لڑکے اور لڑکی کا حصہ

سوال

وراثت میں لڑکا اور لڑکی کو کتنا حصہ ملے گا؟ لڑکی کا کتنا حصہ ہوگا اور لڑکے کا کتنا حصہ ہوگا؟ ایک گھر  جو ایک کروڑ بیس لاکھ روپے کا ہے تو لڑکی کو کتنے ملیں گے  اور لڑکے کو کتنے ملیں گے؟

جواب

وراثت میں بیٹے کا حصہ بیٹی کی بہ نسبت دوگنا ہوتا ہے ، یعنی جتنا حصہ بیٹی کو ملے گا اس کا دوگنا بیٹے کو ملے گا، مثلاً اگر کسی شخص کے ورثا ء میں صرف ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہو ( والدین ، بیوہ وغیرہ  موجود نہ  ہو ) اور وراثت کی رقم ایک کروڑ بیس لاکھ روپے ہو تو  لڑکے کو اسی لاکھ (8000000 ) اور لڑکی کو چالیس لاکھ (4000000) روپے ملیں گے ۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: 11]

فقط والله أعلم  

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200787
تاریخ04-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں