بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سسر کو منت کی رقم دینا

سوال

کیا میں منت مانے پیسے اپنے سسر کو دے سکتا ہوں، جو کہ بیمار ہے، پیسے کی مالیت ایک ہزار سعودی ریال ہے، جب کہ سسر کی آمدن کا کوئی  معقول بندوبست بھی نہیں ہے؟

جواب

منت کی رقم کا وہی مصرف ہے جو زکات کی  رقم کا ہے، یہ رقم  مستحقِ زکات کو دینا ہی ضروری ہے، لہذا اگر آپ کے سسر زکات کے مستحق ہیں یعنی  ان کی ملکیت میں  ضرورتِ  اصلیہ سے زائد، نصاب   (یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت) کے برابر  رقم نہ ہو، اور نہ ہی  اس  قدر ضرورت و استعمال سے زائد  سامان ہو کہ جس کی مالیت نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت) کے برابر بنتی ہے اور نہ  ہی  وہ سید، ہاشمی ہیں تو ان کو منت کی رقم دینا جائز ہے۔

 اگر ان کے  پاس ساڑھے باون تولہ چاندی   یا  اس کی مالیت کے برابررقم ہو، یا ساڑھے سات تولہ سونا ہو، یا ضرورت سے زائد سامان ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر ہو، یا ان میں بعض کا مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر ہو تو انہیں منت کی رقم دینا جائز نہیں ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"مصرف الزكاة والعشر: هو الفقير، وهو من له أدنى شيء". (الدر المختار)

وفي الشامية: "وهو مصرف أيضاً لصدقة الفطر والكفارة والنذر وغير ذلك من الصدقات الواجبة" . (شامي ۲/۳۳۹)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200780
تاریخ04-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں