بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ملازمین سے پردہ کا حکم

سوال

کیا ملازمین سے بھی پردے کا حکم ہے؟

جواب

آپ کے سوال کا مقصد اگریہ ہے کہ عورت کا گھر وغیرہ  کے ملازمین  سے پردہ ہے یا نہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ عورت کے لیے غیر محرم ملازمین سے پردہ لازم ہے۔ اسی طرح عورت ملازم ہو تو اس کے لیے بھی اُس گھر کے غیر محرم مردوں سے پردہ لازم ہے، جہاں وہ ملازمت کرتی ہو۔

وہ افراد جن سے عورت کا پردہ نہیں  ہے، وہ یہ ہیں:
(1)  باپ  (2) بھائی  (3)  چچا   (4) ماموں   (5)  شوہر   (6) سسر   (7) بیٹا   (8)  پوتا   (9) نواسا   (10) شوہر کا بیٹا   (11) داماد   (12) بھتیجا   (13) بھانجا   (14) مسلمان عورتیں   (15) کافر باندی (16) ایسے افراد  جن کو عورتوں کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ ( مثلاً:  چھوٹے بچے جن کو  ابھی یہ سمجھ نہیں کہ عورت کیا ہے، جسے مرد اور عورت میں فرق ہی نہ معلوم ہو)

اس کے علاوہ تمام اجنبیوں سے عورت کا پردہ ہے  خواہ رشتہ دار ہو  ، ملازم ہو یا اجنبی ہو سب اس حکم میں برابر ہیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200759
تاریخ04-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں