بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز فجر کے بعد سے اشراق تک اپنی جگہ بیٹھے رہنا

سوال

کیا نمازِ فجر کے بعد اشراق تک اسی جگہ بیٹھنا ضروری ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اشراق کی نماز کا مکمل ثواب اور مخصوص فضیلت حاصل کرنے کے لیے فجر کی نماز پڑھنے کے بعد سے لے کر اشراق پڑھنے تک اسی جگہ بیٹھنا ضروری ہے، البتہ ویسے ہی فجر کی نماز کے بعد سے اشراق کی نماز تک بیٹھنا ضروری نہیں، کیوں کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو شخص فجر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھے اور پھر اپنی جگہ بیٹھا رہے؛ یہاں تک کہ اشراق کا وقت ہو جائے اور پھر اٹھ کر (کم از کم) دو رکعات اشراق کی نماز پڑھ لے تو اس کو ایک حج اور ایک عمرے کا ثواب ملتا ہے۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل جلد چہارم ص: ۲۲۶)

كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال (2/ 152):

من صلى الفجر فقعد في مقعده، فلم يلغ بشيء من أمر الدنيا يذكر الله عز وجل، حتى يصلي الضحى أربع ركعات، خرج من ذنوبه كيوم ولدته أمه".

جامع الأصول في أحاديث الرسول (9/ 401):

قال رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم- : مَنْ صَلَّى الفجر في جماعة ، ثم قَعَدَ يذكرُ الله ، حتى تطلُع الشمس ، ثم صلى ركعتين ، كانت له كأجر حجة وعمرة ، قال : قال رسولُ الله صلى الله عليه وسلم : «تامة تامة تامة» أخرجه الترمذي.

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200701
تاریخ03-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں