بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد یا گھر میں مٹی کا تیل جلانا

سوال

مٹی کا تیل مسجد،گھر،میں جلانا کیسا ہے؟ کیا اس کے جلانےسےرحمت کے فرشتے نہیں آتے؟ 

جواب

مٹی کے تیل میں بدبو ہوتی ہے اور بدبو دار اشیاء کا استعمال مسجد میں منع ہے، اس سے فرشتوں کو تکلیف ہوتی ہے، لہذا مسجد میں مٹی کا تیل جلانا منع ہے، گھر میں ضروت کی بنا پر استعمال کرسکتے ہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

(قوله: وأكل نحو ثوم) أي كبصل ونحوه مما له رائحة كريهة للحديث الصحيح في النهي عن قربان آكل الثوم والبصل المسجد. قال الإمام العيني في شرحه على صحيح البخاري قلت: علة النهي أذى الملائكة وأذى المسلمين ولا يختص بمسجده - عليه الصلاة والسلام -، بل الكل سواء لرواية مساجدنا بالجمع، خلافا لمن شذ ويلحق بما نص عليه في الحديث كل ما له رائحة كريهة مأكولاً أو غيره".

(661/1 ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200673
تاریخ02-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں