بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جمعے کے دن صرف ایک خطبہ دینا

سوال

اگر جمعہ کے دن امام صرف ایک خطبہ دے تو کیا حکم ہے؟

جواب

جمعے  کی نماز کے لیے خطبہ دینا شرط ہےاور یہ شرط ایک خطبہ سے بھی ادا ہوجائے گی، لیکن دو خطبے دینا سنتِ متوارثہ ہے،  اس  کی خلاف ورزی کرنا درست نہیں ہے۔ لہذا اگر  کسی عذر کی وجہ سے ایک خطبہ دیا گیا تو نماز درست ہوجائے گی، لیکن سنت چھوڑنے کا گناہ ملے گا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: ويسن خطبتان) لاينافي ما مر من أن الخطبة شرط؛ لأن المسنون هو تكرارها مرتين، والشرط إحداهما". (رد المحتار) (2/ 148)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200625
تاریخ01-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں