بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق اور وساوس

سوال

طلاق کے سلسلہ میں سوال بنا کر ایک شخص نے دارلافتاء کے پیج پر میل کیا اور سوال کو دوبارہ چیک کرنے کے لیے وہ صفحہ بند کرنے کے بعد دوبارہ سابقہ صفحہ کھولا؛ تاکہ تسلی سے سوال کو پڑھ سکے،  جس میں لکھا تھا کہ  ۔۔۔ نے کہا کہ میری بیوی کو طلاق ۔

جواب

کسی تحریر کو پڑھنے  سے اپنی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوتی، ہاں اگر اس شخص نے  اپنی بیوی کی طرف نسبت کرکے طلاق کے الفاظ کہے تھے تو طلاق واقع ہوگی، نیز اس شخص کو طلاق کے وساوس میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200600
تاریخ31-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں