بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میزان بنک سے گھر بنانے کے لیے قرض لینا

سوال

 میزان بنک سے گھر بنانے کے لیے قرض لینا ہو تو اس میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ میرے تمام اکاؤنٹ کرنٹ ہیں!

جواب

واضح رہے کہ  ملک کے اکثر جید اور مقتدر مفتیانِ کرام  کی رائے یہ ہے کہ  مروجہ غیر سودی بینکوں کا طریقہ کار شرعی اصولوں کے مطابق نہیں ہے،  اور مروجہ غیر سودی بینک اور  روایتی بینک کےبہت سے  معاملات درحقیقت ایک جیسے ہیں، لہذا روایتی بینکوں کی طرح ان سے بھی  تمویلی معاملات کرنا جائز نہیں ہے، لہذا میزان بینک سے گھر بنانے کے لیے قرض لینے کا معاملہ کرنا شرعا جائز نہیں ہے، البتہ ضرورت ہو تو کرنٹ اکاؤنٹ کھلوایا جاسکتا ہے۔( تفصیلی معلومات کے لیے  ’’مروجہ اسلامی بینکاری‘‘ نامی کتاب کا مطالعہ مفید رہے گا) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200583
تاریخ31-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں