بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بلی پالنے کا حکم

سوال

بلی پالنا کیسا ہے؟

جواب

بلی پالنا جائز ہے، البتہ اس کے کھانے پینے کا خیال رکھنا چاہیے، نیز   اس کی گندگی اور نجاست سے  پاکی کا اہتمام بھی ہونا چاہیے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5 / 226):

(وصح بيع الكلب) ولو عقورًا (والفهد) و الفيل والقرد (والسباع) بسائر أنواعها حتى الهرة، وكذا الطيور.

(قوله: حتى الهرة) لأنها تصطاد الفأر والهوام المؤذية فهي منتفع بها، فتح.

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200580
تاریخ31-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں