بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آدم جی فیملی تکافل کی پالیسی خریدنا یا اس کے ساتھ کام کرنا

سوال

آدم جی فیملی تکافل کی پالیسی خریدنا یا اس کے ساتھ کام کرنا جائز ہے یا ناجائز؟

جواب

آدم جی  فیملی تکافل اور  موجودہ دور میں اس جیسی جتنی دیگر تکافل پالیسیاں ہیں ان میں بھی وہی خرابیاں ( یعنی سود، جوا اور غرر) پائی جاتی ہیں جو   انشورنس  میں پائی جاتی ہیں؛ اس لیے انشورنس کی طرح کسی بھی ادارے کی کسی بھی قسم کی تکافل پالیسی لینا یا اس کے ساتھ کام کرنا جائز نہیں ہے۔
تکافل کے عدمِ جواز کے  بارے میں تفصیلی فتوی درج ذیل لنک پر ملاحظہ کیجیے:

پاک قطر تکافل کی پالیسی خریدنا اور اس ادارے میں ملازمت کرنے کا حکم

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200459
تاریخ29-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں