بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جمعہ کی اردو تقریر کے بعد سنتوں کا وقت نہ دینا

سوال

جمعے  کی اردو تقریر کے فوراً بعد سنتوں کا وقت دیے بغیر اذان اور خطبہ اور نماز پڑھا سکتے ہیں؟

جواب

 صورتِ مسئولہ میں   اگر  جمعہ کی نماز سے پہلے  کی سنتیں جمعہ کی اردو تقریر سے پہلے پڑھ لی جائیں تو اردو  تقریر کے فوراً بعد اذان اور خطبہ  دے کر جمعہ کی فرض نماز پڑھا سکتے ہیں، سنتوں کا علیحدہ سے وقت دینا ضروری نہیں، اور اگر کوئی تاخیر سے  عربی خطبے کے دوران آئے تو اس وقت سنتیں نہ پڑھے، بلکہ جمعے کے بعد کی سنتوں کے بعد پڑھے۔ بہرحال  خطبے سے  پہلے بایں طور سنتوں کا وقت دینا چاہیے کہ مقتدیوں کو معلوم ہو کہ یہ سنتیں ادا کرنے کا وقت ہے؛ کیوں کہ ان کا خطبے سے  پہلے پڑھنا مسنون ہے۔

الفتاوى الهندية (1/ 148) :

"إن كان في النفل، ثم شرع الخطيب في الخطبة يقطع قبل السجدة وبعدها عند الركعتين، هكذا في القنية."

فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200444
تاریخ28-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں