بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مرتد کا نکاح اور وراثت میں حصہ

سوال

مرتد آدمی کا اپنی مسلمان بیوی سے نکاح برقرار رہتا ہے  اور کیا مرتد آدمی اپنےوالد کی میراث میں حق دار ہوگا؟


جواب

بصورتِ مسئولہ جو شخص مرتد ہوجائے اس کا اپنی بیوی سے نکاح  فورا  ختم ہوجاتا ہے، اگر یہ شخص توبہ کرکے دوبارہ مسلمان ہوجائے تو اس کے لیے تجدیدِ نکاح کرنا ضروری ہے۔

جو شخص مرتد ہوجائے اور  اپنے والد  یا کسی بھی مسلمان مورث کی  وفات کے وقت بھی حالتِ ارتداد میں ہو تو وہ اس کی متروکہ جائیداد میں حصہ دار نہیں ہوتا، البتہ اگر مورث کی وفات سے پہلے توبہ کرکے مسلمان ہوجائے تو وراثت کا حق دار ہوتا ہے۔

’’أجمع أصحابنا علی أن الردة تبطل عصمة النکاح، وتقع الفرقة بینہما بنفس الردۃ إلخ۔‘‘

(فتاوى قاضیخان، کتاب السیر، باب الردۃ وأحکامہا،۳/ ۴۳۲ ط:مکتبہ زکریا دیوبند جدید)

’’المرتد لا يرث من مسلم ولا من مرتد مثله، كذا في المحيط‘‘

(الفتاوى الهندية 6/ 455 ط: دار الفكر)  فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200381
تاریخ27-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں