بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کا جنریٹر خریدنے کے لیے زکاۃ کی رقم استعمال کرنا

سوال

کیا زکاۃ کے پیسوں میں سے مسجد کے جنریٹر وغیرہ خریدنے کے لیے  رقم دی جاسکتی ہے؟

جواب

زکات اور صدقاتِ واجبہ (مثلاً: نذر، کفارہ، فدیہ اور صدقہ فطر) ادا ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ  اسے کسی مسلمان مستحقِ زکاۃ  شخص کو  بغیر عوض کے مالک بناکر دیا جائے، لہٰذا مسجد کی ضروریات مثلاً جنریٹر وغیرہ خریدنے کی مد میں  زکاۃ کی رقم استعمال نہیں کی جاسکتی؛ کیوں کہ اس میں تملیک نہیں پائی جاتی۔ البتہ نفلی صدقات اور عطیات  مسجد کی ضروریات کی  مد میں دیے جاسکتے ہیں۔ نیز مسجد کے اخراجات کے لیے اہلِ محلہ کو اپنی سعادت سمجھتے ہوئے اپنے پاکیزہ ما ل کو استعمال کرنا چاہیے۔

"فتاوی عالمگیری"  میں ہے:

"لايجوز أن يبنی بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد، وكل ما لا تمليك فيه، ولايجوز أن يكفن بها ميت، ولايقضى بها دين الميت، كذا في التبيين".   (1/ 188، كتاب الزكاة، الباب السابع في المصارف، ط: رشیدیة)

  فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200345
تاریخ26-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں