بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قبر پر چالیس دن تک اجتماعی فاتحہ خوانی اور دعا کرنا

سوال

 ہمارے یہاں داحود، گجرات میں جب کسی مال دار کا انتقال ہوتا ہے تو اس کی قبر پر چالیس دن تک اجتماعی فاتحہ خوانی اور دعا ہوتی ہے، اور ایسا کرنے والے علماء ہیں۔ مگر غریب مرتاہے تو ایسا نہیں ہوتاہے، نیز جمعہ کے دن اور کبھی کبھی عشاء کے بعد بھی میت کے گھر اجتماعی دعا کروادیتے ہیں تو کیا شریعت میں اس کی گنجائش ہے؟

جواب

 کسی  کی قبر پر چالیس دن تک  جانا اور  دعا کرنا، اگر اس کو   دینی حکم کے طور پر ضروری  سمجھا جائے، یا زیادہ فضیلت کا باعث سمجھ کر پابندی کے ساتھ کیا جائے، یا اس کا اہتمام نہ کرنے والوں کو ملامت کی جائے تو یہ بدعت  اور واجب الترک ہے۔ یہی حکم خاص جمعہ کے دن کی دعا کا بھی ہے۔ نیز اس میں امیر اور غریب کی کوئی تفریق نہیں، دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔

حدیث رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہے:

’’من أحدث في أمرنا هذا ما لیس منه فهو رد‘‘

یعنی ’’جس شخص نے ہمارے اس دین میں ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں نہیں ہے تو وہ مردود (قابل رد) ہے۔‘‘

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200264
تاریخ25-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں